بھوپال، 29؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )مقامی عدالت نے کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ کی جانب سے دائر ہتک عزت کے معاملے میں مرکزی وزیر اوما بھارتی کی عدالت میں حاضر ہونے سے چھوٹ دینے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے آج ان کے خلاف غیر ضمانتی گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔مرکزی وزیر آبی وسائل اوما بھارتی کے وکیل ہریش مہتا کی طرف سے ضروری میٹنگ کی وجہ سے بھارتی کو آج عدالت میں حاضر ہونے سے چھوٹ دینے کیلئے دائر کی گئی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے چیف عدالتی مجسٹریٹ(سی جی ایم)بھوبھاسکر یادو نے اوما بھارتی کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کر دیا۔بھارتی کو سماعت کیلئے عدالت میں حاضر ہونے سے چھوٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے مہتا نے کہا کہ ان کی موکل عدالت عظمی کے حکم پر کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان کاویری پانی تنازعہ کو لے کر ایک اہم میٹنگ میں مصروف ہیں اور اس وجہ سے یہاں عدالت میں موجود نہیں ہو سکتی ہیں۔سی جی ایم یادو نے بھارتی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہتک عزت کے اس معاملے میں اکتوبر 2015سے وہ اپنا بیان درج نہیں کروا رہی ہیں اور 13سال کے عرصے میں اس معاملے میں انہیں کئی بار موقع دیا گیا ہے۔اس سے پہلے فروری میں اس وقت کے سی جی ایم پنکج سنگھ ماہیشوری نے اوما بھارتی اور دگ وجے سنگھ کو اپنے اختلافات ختم کرنے کے لیے اپنے وکلاء کے ساتھ ثالثی مرکز میں موجود ہونے کے لئے کہا تھا، لیکن یہ نہیں ہو سکا۔واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں سال 2003کے اسمبلی انتخابات مہم کے دوران اوما بھارتی نے دگ وجے سنگھ پر گھوٹالے کے الزام لگایاتھا۔اوما بھارتی نے کہا تھا کہ دگ وجے سنگھ نے وزیر اعلی رہتے ہوئے پندرہ ہزار کروڑ کا گھوٹالہ کیا۔انہیں الزامات کے بعد دگ وجے سنگھ نے اوما بھارتی پر ہتک عزت کا مقدمہ درج کروایا تھا۔